اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ انسانی حقوق اور آزادی کے دفاع سے متعلق بین الاقوامی اتحاد کے سربراہ محمد الشامی نے کہا ہے کہ وہ (اقوام متحدہ کے نمائندے) نہیں جانتے کہ یمن کے بحران اور سیاسی صورتحال سے کس طرح نمٹا جائے۔
ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم کے سربراہ لوران سوری نے بھی یمن کے خلاف بعض ملکوں کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک سعودی عرب کے اتحادی ہونے اور ریاض کو ہتھیارفروخت کرنے کی وجہ سے حقائق پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
ورلڈ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ جولیان دوسار نے بھی یمن کی جنگ کے بارے میں عالمی برادری کے منفی رویّے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شام اور عراق کی جنگ کی تشہیر کی وجہ سے عالمی ذرائع ابلاغ یمن کے بحران پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
اس درمیان یمن کے اسنائپروں نے سعودی عرب کے حملوں اور جرائم کے جواب میں دوسعودی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔
پرس ٹی وی نے خبردی ہے کہ یمنی اسنائپروں نے سعودی عرب کے جنوبی سرحدوں علاقوں جیزان اور عسیر میں دو سعودی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔
دوسری جانب یمنی فوج کے توپخانے نے بھی جیزان میں سعودی عرب کی ایک سرکاری عمارت پر حملہ کیا ہے۔یمن کے توپخانے نے اسی طرح جیزان میں واقع الغاویہ فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد سعودی فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔
دریں اثنا یمنی فوج نے جمعے کی صبح یمن کے صوبہ شبوہ کے علاقے عسیلان میں سعودی فوجی اڈے پر میزائل سے حملہ کیا ہے۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں سعودی اتحادی فوج کے متعدد اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
یمن پر مارچ دوہزار پندرہ سے سعودی عرب کے وحشیانہ حملے جاری ہیں جن میں اب تک ہزاروں بے گناہ یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں میں یمن کی بنیادی شہری تنصیبات منجملہ اسکول، اسپتال اور حتی مساجد بھی منہدم ہوگئی ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی ایما پر یمن پر جاری سعودی جارحیت کے ساتھ ساتھ یمن کا شدید محاصرہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے یمن کے مظوم شہریوں کو غذائی اشیا اور دواؤں کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

Islamic News